بھٹکل:23/ جولائی(ایس او نیوز)ساحل آن لائن پربے گھروں کو گھرتعمیر کے لئے دی جانے والی امداد کے متعلق خبر شائع ہونے کے بعد کئی ایک قارئین نے متعلقہ بلدیہ اور پٹن پنچایت سے رابطہ کر کے تفصیلات چاہی، وہاں سے انہیں کوئی مناسب جانکاری نہیں ملی تو قارئین نے ساحل آن لائن کو خبر کے متعلق اشکال پیش آنے کی شکایت کی۔ عوامی فکر اور ایک جائزمنصوبے سے مستحقین کو فائدہ پہنچانے کے لئے کاروار کے نشریہ محکمہ کے افسر سے رابطہ کرکے تفصیل جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے متعلقہ بلدیہ یا پٹن پنچایت افسر سے ملاقات کرکے تفصیل لینے کی رائے دی۔ اسی کے تحت ساحل آن لائن کے نمائندے نے بھٹکل بلدیہ کےچیف آفیسر سے ملاقات کی تو انہوں نے متعلقہ خبرکے متعلق اپنی پریس ریلیز دی ہے اور بلدیہ کے آفیسر وینو گوپال شاستری سے ملاقات کرکے عوامی سطح پر تفصیل طلب کرنے پر انہوں نے جو کچھ جانکاری دی ہے، اُسے یہاں پیش کیا جارہا ہے۔
بھٹکل بلدیہ چیف آفیسر کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بھٹکل بلدیہ حدود کے عوام کو اطلاع دی گئی ہے کہ مرکزی حکومت کے ہاؤسنگ فار آل منصوبے کے تحت غیر رہائشی اہل خاندان مختلف منصوبہ جات کے تحت گھر کی تعمیر کے لئے عرضیاں دے سکتےہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومت کی طرف سےبے گھروں کو گھر مہیا کرنے کے لئے کل4رہائشی منصوبہ جات کے تحت عرضیاں مطلوب ہیں۔
ان میں مرکزی حکومت کے منصوبےہاؤسنگ فار آل کریڈٹ لنک سبسڈی کے تحت مختلف اصول وضوابط کے مطابق گھر تعمیرکرنے کے لئے تعاون دیا جائے گا۔وہ خاندان جو معاشی طور پر کمزورہیں ، ان کی خود زمین ہو اوروہ ان کے نام پر ہو۔کچا گھر ہو۔ اس منصوبے کے اہل افراد کو 30مربع فٹ کی زمین پر گھر تعمیر کے لئے 6لاکھ روپیوں تک کے بینک قرضے پر 6.5سود ی تعاون (سبسڈی)دیجائے گی۔ اور اسی طرح معاشی سطح پر کمزور طبقات کے خاندان والوں کو (EWS)کو30مربع فٹ اور قلیل آمدنی والے (لو انکم-LIG ) طبقات کو 60مربع فٹ زمین پر گھر تعمیر کرنےکے لئے تعاون دیا جائے گا۔ معاشی سطح پر کمزور طبقات کی سالانہ آمدنی 3لاکھ روپئے تک طئے کی گئی ہے ، جب کہ قلیل آمدنی والے یعنی لوانکم طبقات کے لئے سالانہ آمدنی کی حد 3لاکھ سے 6لاکھ روپئے کے اندر ہونی چاہئے۔ متعلقہ منصوبے کے تحت استفادہ کرنے کے لئے جو ضوابط طئے کئے گئے ہیں وہ اس طرح ہیں، درخواست گزار عورت ہونی چاہئے۔ اپنی عرضی کے ساتھ زمینی کاغذات ، راشن کارڈ، آدھارکارڈ، بینک پاس بک ، انکم سرٹی فکٹ، گھرتعمیرکی منظوری سنداور بلیو پرنٹ کی دونقل کے ساتھ دو فوٹومنسلک کرنی ہوگی۔
ایک دوسرا منصوبہ پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی )کے تحت گھر تعمیر کے لئے تعاون دیا جائے گا۔تعاون لینے کے لئے جو شرائط طئے گئے ہیں وہ اس طرح ہے۔ عرضی دار کا کوئی گھر نہ ہو، خود کی زمین ہو، جھونپٹری میں رہنے والے، عارضی شیڈ، بوسیدہ گھریا کچا گھروں میں رہنے والوں کو 300مربع فٹ سے زائد زمین نہ ہو۔ جس میں ایک کمرہ بھی نہ ہو اور اس خاندان میں 4سے زائد افرادرکھنے والے خاندان کو تعاون دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ خاندان کے کسی بھی فرد کے نام پر کرناٹکا کے کسی بھی مقام پر ذاتی گھر نہ ہو، ان کی سالانہ آمدنی 3لاکھ روپیوں کے اندر ہو۔ دیگر کسی بھی اسکیم یا منصوبہ یا محکمہ سے رہائشی استفادہ نہ کیا ہو۔متعلقہ منصوبے کے تحت استفادہ کرنے والی عورت ہونی چاہئے۔ عرضی کے ساتھ زمین کے اسناد، راشن کارڈ،انکم سرٹیفکٹ، آدھار کارڈ، بینک پاس بک کی نقل اور دو فوٹو منسلک کریں۔دیگر کسی بھی منصوبے یا محکمہ سے رہائشی استفادہ نہ کیا ہو۔متعلقہ منصوبے کے تحت گھر کی تعمیر کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے 1لاکھ 20ہزار روپئے اور مرکزی حکومت کی جانب سے 1لاکھ 50ہزارروپئے کل 2لاکھ 70ہزار روپئے گھر کی تعمیر کے لئے تعاون دیا جائے گا۔
تیسرا منصوبہ ڈاکٹر امبیڈکر نواس یوجناکے تحت ایس ٹی ، ایس سی طبقات استفادہ کرسکتے ہیں۔ منصوبے سے استفادہ کے شرائط میں درج ہے کہ عرضی دار خاندان غیر رہائشی ہو، خود کی زمین رکھتا ہو، جھونپٹری کے مکین، عارضی شیڈ، بوسیدہ گھریا کچامکان رکھتے ہوں،300مربع فٹ زمین سے زائد نہ گردانتے ہوں جہاں ایک بھی کمرہ نہ ہوتے ہوئے خاندان میں 4سے زائد افراد رکھنے والے خاندا ن کو تعاون دیاجائے گا۔ واضح رہے کہ خاندان کے کسی بھی فرد کے نام پر کرناٹکا کے کسی بھی مقام پر گھر نہ ہو۔ ان کی سالانہ آمدنی 87ہزار 600روپئے کے اندر ہو، عرضی دار عورت ہو۔ دیگر کسی بھی منصوبے یا محکمہ جات سے کوئی بھی رہائشی سہولیات حاصل نہیں کی ہو۔عرضی کے ساتھ زمین کی اسناد، آدھار کارڈ، راشن کارڈ، انکم سرٹیفکٹ، بینک پاس بک کی نقل کے ساتھ دو فوٹو منسلک ہو۔ گھر کی تعمیر کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے 1لاکھ روپئے 80ہزار روپئے اور مرکزی حکومت 1لاکھ 50ہزار روپئے کل 3لاکھ 30ہزار روپئے گھر کی تعمیر کے لئے امداد دی جائے گی۔
چوتھادیوراج ارس رہائشی منصوبہ خصوصی طبقات میں سے صفائی ملازمین کے لئےمختص کیا گیا ہےشرائط میں کہا گیا ہے کہ مستفید خود کی زمین رکھتا ہو،دیگر کسی بھی محکمہ جات یا منصوبہ سے استفادہ نہ کیا ہو، ذاتی گھر نہ ہو۔عرضی دار عورت ہونی چاہئے۔عرضی کے ساتھ زمین کے اسناد، راشن کارڈ، انکم سرٹیفکٹ، آدھار، بینک پاس بک کی نقل کے ساتھ دو فوٹومنسلک کریں۔ اس منصوبے کے تحت گھر کی تعمیر کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے1لاکھ 20ہزار روپئے اورمرکزی حکومت کی طرف سے 1لاکھ 50ہزارروپئے یعنی کل 2لاکھ 70ہزار روپئےکا تعاون دیا جائے گا۔
بلدیہ افسر وینوگوپال شاستری نے واضح کیاکہ فی الحالکوئی عرضی موصول نہیں ہوئی ہے۔حکومت کی طرف سے بھی معلومات فراہم کی جائیں گی متعلقہ جانکاری اور دی گئیں عرضیوں کے مطابق گھر گھر کا سروے کریں گے، گھر گھر جاکر جائزہ لیں گے ، اس کے بعد فائنل ہوگا۔ عرضی وصول کرنے کے بعد سروے کرتے ہوئے معائنہ کریں گے۔عرضی دینے کے لئے 30جولائی آخری تاریخ ہے۔